الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ حُكْمِ الْعُمْرَةِ وَصِفَتِهَا باب: عمرے کے حکم اور اس کے طریقہ کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ذَكَرُوا الرَّجُلَ يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ فَيَحِلُّ، هَلْ لَهُ أَنْ يَأْتِيَ يَعْنِي امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: لَا حَتَّى يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَسَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ لوگوں نے یہ بات ذکر کی کہ ایک آدمی عمرے کا احرام باندھتا ہے، پھر وہ احرام کھول دیتا ہے توکیا صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے ہم بستری کر سکتا ہے، پھر ہم نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: نہیں، جب تک وہ صفا مروہ کی سعی نہ کر لے، اس وقت تک یہ کام نہیں کر سکتا، پھر ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں اور پھر صفا مروہ کی سعی کی۔ اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … یقینا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (سورۂ احزاب: ۲۱)
(۲)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ)) … ’’جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱) ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَعَلَی النِّسَائِ جِہَادٌ۔ قَالَ: ((اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ ہُوَ جِہَادُ النِّسَائِ)) … اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’حج اور عمرہ عورتوں کا جہاد ہیں۔‘‘ اس حدیث میں ’’عَلٰی‘‘ کا کلمہ وجوب کا فائدہ دینے میں ظاہر ہے۔
(۳)صبی بن معبد نے کہا: ((رَاَیْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ مَکْتُوْبَیْنِ عَلَیَّ فَاَھْلَلْتُ بِھِمَا۔ فَقَالَ لَہٗ: ھُدِیْتَ لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ)) … میں نے حج اور عمرہ کو اپنے آپ پر فرض پایا، اس لیے ان دونوں کا تلبیہ کہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تجھے تیرے نبی کی سنت کے مطابق ہدایت دی گئی ہے۔ (سنن ابی داود: ۱۷۹۹)سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا جابر اور امام شافعی اور امام احمد وغیرہ عمرہ کے وجوب کے قائل ہیں۔جبکہ امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور امام نخعی وغیرہ کا خیال ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے، بلکہ سنت ہے۔علامہ شوکانی کہتے ہیں: حق یہ ہے کہ عمرہ واجب نہیں اور اس کے وجوب کی کوئی صریح دلیل بھی نہیں۔لیکن فوائد میں مذکورہ تین دلائل عمرہ کے وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔