حدیث نمبر: 4107
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى مَتَى تُضِلُّ النَّاسَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا ذَاكَ يَا عُرْوَةُ؟ قَالَ: تَأْمُرُنَا بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَقَدْ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُرْوَةُ: كَانَا هُمَا أَتْبَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَعْلَمَ بِهِ مِنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عروہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابن عباس! آپ کب تک لوگوں کو گمراہ کرتے رہیں گے؟ انہوں نے کہا: عروہ! کیا بات ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا کرنے سے منع کرتے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عمل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کیا ہے۔ عروہ نے کہا: لیکن وہ دونوں آپ کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیادہ اتباع کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … بلا شک و شبہ حج کے مہینوںمیں عمرہ کرنا درست ہے، دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے یہ مصلحت تھی کہ لوگ حج کے مہینوں میں لوگ حج کے لیے سفر کر کے آئیں اور پھر دوسرے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے الگ سے آئیں، تاکہ دونوں عبادتیں اپنی اپنی جگہ پر مستقل طور پر ہوں اور دونوں کے لیے الگ الگ مشقت اور خرچہ برداشت کیا جائے، دیکھیں احادیث نمبر (۴۲۰۴، ۴۲۰۵،۴۲۰۶)۔لیکن شیخین کی اس رائے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کو ناجائز سمجھتے تھے، حدیث نمبر (۴۱۹۴)میں اور اس کی شرح میں اس بات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس کا مطالعہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4107
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2277»