حدیث نمبر: 4101
عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِيَّ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ؟ قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ، اعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: مَنْ كَانَ صَرُورَةً فَلَا يَصْلُحُ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، قَالَ: فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِنَّ، قَالَ: فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأُشْفِيكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو عمران اسلم کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤں کی معیت میں حج کے لئے گیا، میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: کیا میں حج سے قبل عمرہ کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی تمہاری مرضی ہے، اگر چاہو تو حج سے پہلے عمرہ کر لو اور چاہو تو بعد میں کر لو۔ میں نے کہا کہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے پہلے حج نہ کیا ہو وہ عمرہ نہیں کر سکتا۔ پھر میں نے دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہ سے یہی مسئلہ دریافت کیا تو ان سب نے وہی بات کہی جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہی تھی، میں نے واپس آ کر ان کو یہ بات بتائی، پھر انھوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، لیکن میں تمہاری مزید تشفی کر دیتی ہوں اور وہ اس طرح کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اے آلِ محمد! حج کے ساتھ عمرے کا تلبیہ بھی کہو۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج قران کا حکم دے رہے ہیں، اس حج میں ایک احرام میں حج اور عمرہ ادا کیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حج ادا کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 792، والبيھقي: 4/ 355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27083»