الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي جَمِيعِ أَشْهُرِ السَّنَةِ قَبْلَ الْحَجِّ وَبَعْدَهُ وَمَعَهُ باب: حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، نُرِيدُ الْعُمْرَةَ مِنْهَا، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَلَمْ نَحُجَّ قَطُّ، أَفَنَعْتَمِرُ مِنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَدِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُمَرَهُ كُلَّهَا قَبْلَ حَجَّتِهِ وَاعْتَمَرْنَا۔ (دوسری سند) عکرمہ کہتے ہیں: میں اہل مکہ کے چند افراد کے ہمراہ مدینہ منورہ آیا، دراصل ہم وہاں سے عمرہ کے لئے جانا چاہتے تھے، میری ملاقات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ہو گئی، میں نے ان سے پوچھا: ہم مکہ کے رہنے والے لوگ ہیں، اب ہم مدینہ آئے ہوئے ہیں، ہم نے کبھی بھی حج نہیں کیا، تو کیا اب ہم یہاں سے عمرہ کر سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بھلا کون سی چیز تمہیں اس سے مانع ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اپنے سارے عمرے حج سے پہلے کئے تھے اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ عمرے کیے تھے۔