الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي تَطْهِيرِ أَسْفَلِ النَّعْلِ تُصِيبُهُ النَّجَاسَةُ باب: جوتے کے نچلے حصے کو لگ جانے والی نجاست کو پاک کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟)) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، قَالَ: ((إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُقَلِّبْ نَعْلَيْهِ فَلْيَنْظُرْ فِيهِمَا، فَإِنْ رَأَى بِهِمَا خَبَثًا فَلْيَمْسَحْهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيهِمَا))سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور (نماز کے اندر) جوتے اتار دیے، پس لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: ”تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار دیے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا، سو ہم نے بھی اتار دیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے میرے پاس آکر مجھے بتلایا کہ ان میرے جوتوں پر نجاست لگی ہوئی ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ لیا کرے، اگر ان میں کوئی نجاست نظر آئے تو اس کو زمین سے صاف کر لے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔“
صحابہ کرام کی اطاعت ِ رسول کا جذبہ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز میں جوتا اتارا تو انھوں نے بھی اسی وقت اس کو اتارنا مناسب سمجھا۔ سبحان اللہ