الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي جَمِيعِ أَشْهُرِ السَّنَةِ قَبْلَ الْحَجِّ وَبَعْدَهُ وَمَعَهُ باب: حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 4099
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا بَأْسَ عَلَى أَحَدٍ يَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، قَالَ عِكْرِمَةُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ بن خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے قبل از حج عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: حج سے پہلے عمرہ کرنے والے پر کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حج سے پہلے عمرہ کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کل چار عمرے کیے: (۱) عمرۂ حدیبیہ،(۲) عمرۂ قضا، (۳) عمرۂ جعرانہ اور (۴) حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمر۔
پہلے تینوں عمرے حرمت والے مہینے ذوالقعدہ میں ادا کیے،یہ مہینہ ذوالحجہ سے پہلے ہے اور چوتھا عمرہ ذوالحجہ کے مہینے میں حج کے ساتھ ادا کیا، ایک باب کے بعد ان تمام عمروں کی وضاحت آ رہی ہے۔
پہلے تینوں عمرے حرمت والے مہینے ذوالقعدہ میں ادا کیے،یہ مہینہ ذوالحجہ سے پہلے ہے اور چوتھا عمرہ ذوالحجہ کے مہینے میں حج کے ساتھ ادا کیا، ایک باب کے بعد ان تمام عمروں کی وضاحت آ رہی ہے۔