الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْعُمْرَةِ خُصُوصًا فِي رَمَضَانَ باب: عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4098
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا، یہ عمل اِن دو کے درمیانی عرصے کے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بنتا ہے اور رہا مسئلہ حج مبرور کا تو اس کا بدلہ تو صرف جنت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دو عمروں کی وجہ سے ان کے درمیانے گناہوں کا بخش دیا جانا، ظاہر بات تو یہی ہے کہ ان گناہوں کی معافی دوسرے عمرے کی وجہ سے ہو گی اور پہلے عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف کیے جائیں گے، ’’کِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ‘‘ کے پہلے باب میں مذکورہ احادیث سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہر عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف ہوتے ہیں۔