حدیث نمبر: 4097
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَهُ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: ((يَا أَخِي! لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِكَ))، وَقَالَ بَعْدُ فِي الْمَدِينَةِ: ((أَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ))، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَخِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دی اوریہ بھی فرمایا: میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھلا نہ دینا۔ راویٔ حدیث شعبہ نے بعد میں مدینہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے: ہمیں اپنی دعاؤں میں شامل کیے رکھنا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو مجھے اپنا بھائی کہا تھا، یہ چیز مجھے اتنی پسند آئی کہ میں اس کے مقابلے میں پوری دنیا کو ترجیح نہیں دیتا۔

وضاحت:
فوائد: … ’’مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ‘‘ کا لفظی معنی ہے وہ چیزیں جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، اس سے مراد پوری دنیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4097
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبد الله۔ أخرجه ابوداود: 1498، وابن ماجه: 2894، والترمذي: 3562 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 195»