الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْعُمْرَةِ خُصُوصًا فِي رَمَضَانَ باب: عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَهُ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: ((يَا أَخِي! لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِكَ))، وَقَالَ بَعْدُ فِي الْمَدِينَةِ: ((أَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ))، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَخِي))۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دی اوریہ بھی فرمایا: میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھلا نہ دینا۔ راویٔ حدیث شعبہ نے بعد میں مدینہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے: ہمیں اپنی دعاؤں میں شامل کیے رکھنا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو مجھے اپنا بھائی کہا تھا، یہ چیز مجھے اتنی پسند آئی کہ میں اس کے مقابلے میں پوری دنیا کو ترجیح نہیں دیتا۔