الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ اعْتِبَارِ الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ مِنَ الِاسْتِطَاعَةِ وَكَذَلِكَ سَلَامَةِ الطَّرِيقِ وَوُجُودِ باب: زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
حدیث نمبر: 4091
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ، وَجَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي اُكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ، قَالَ: ((فَارْجِعْ فَحُجَّ مَعَهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی خاتون محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: فلاں غزوے میں میرا نام لکھا گیاہے ،جبکہ میری اہلیہ حج کے لئے جانا چاہتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور اس کے ساتھ حج کر۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت مطلق طور پر کوئی سفر نہیں کر سکتی، الّا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم یا خاوند ہو۔ بعض احادیث میں تین دنوں کا، بعض میں دو دنوں کا، بعض میں ایک دن رات کا، بعض میں ایک رات کا اور بعض ایک دن کے سفر کی قید لگائی گئی ہے، لیکنحقیقتیہ ہے کہ اتفاقی قیدیں ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عورت اپنے محرم یا خاوند کے بغیر سفر نہیں کر سکتی۔ اس کا نتیجہیہ نکلا کہ عورت کو حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے محرم یا خاوند کے بغیر نہیں جانا چاہیے، جمہور اہل علم کا یہی مسلک ہے، نیز وہ کہتے ہیں کہ اس کو دوسری عورتوں کے ساتھ سفر نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ وہ بااعتبار ہوں، دلائل کے ظاہری مفہوم کا یہی تقاضا ہے۔