حدیث نمبر: 4090
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا بِفَارِسَ وَعَلَيْنَا أَمِيرٌ، يُقَالُ لَهُ زُهَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ بَاتَ فَوْقَ إِجَّارٍ أَوْ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ حَوْلَهُ شَيْءٌ يَرُدُّ رِجْلَهُ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ بَعْدَ مَا يَرْتَجُّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) ابو عمران جونی کہتے ہیں: ہم فارس کے علاقے میں تھے ، زہیر بن عبد اللہ نامی ایک شخص ہمارا امیر تھا، اس نے کہاکہ ایک آدمی نے اسے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایسی چھت کے پردے کے اوپر یا چھت پر رات گزارے، جس پر کوئی ایسا پردہ یا رکاوٹ نہ ہو جو اس کی ٹانگ کو روک سکے تو اللہ تعالی کی حفاظت اس سے اٹھ جاتی ہے، اسی طرح سمندر کے متلاطم ہونے کے بعد اس کا سفر کرے تو اس سے بھی اللہ تعالی کی حفاظت اٹھ جاتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے یہ استدلال کیا جا رہا ہے کہ حج کا راستہ پر امن ہونا چاہیے، اگر بعض وجوہات کی بنا پر جان اور کسی بڑی مشکل کا خطرہ ہو تو حج کے لیے روانہ نہیں ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4090
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21029»