الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي تَطْهِيرِ ذَيْلِ الْمَرْأَةِ إِذَا مَرَّتْ بِنَجَاسَةٍ باب: نجاست سے گزرنے والی خاتون کے کپڑے کے نچلے حصے کو پاک کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيْسَى عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنًا، فَكَيْفَ نَصْنَعُ إِذَا مُطِرْنَا؟ قَالَ: ((أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ((فَهَذِهِ بِهَذِهِ)) وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ((إِنَّ هَذِهِ تَذْهَبُ بِذَلِكَ))موسیٰ بن عبداللہ رحمہ اللہ، جو کہ سچائی والا آدمی تھا، بنو عبد اشہل کی ایک صحابیہ خاتون رضی اللہ عنہا سے روایت کرتا ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مسجد کی طرف آنے والا ہمارا راستہ بدبودار ہے، جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے بعد کوئی پاک راستہ نہیں ہے؟“ اس نے کہا: ”جی کیوں نہیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر یہ راستہ اس کے بدلے ہے۔“ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پاک راستہ اس (ناپاک راستے کے اثر) کو ختم کر دے گا۔“