الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ اعْتِبَارِ الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ مِنَ الِاسْتِطَاعَةِ وَكَذَلِكَ سَلَامَةِ الطَّرِيقِ وَوُجُودِ باب: زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
حدیث نمبر: 4089
عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَغَزَوْنَا نَحْوَ فَارِسَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ إِجَّارٌ، فَوَقَعَ فَمَاتَ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ ارْتِجَاجِهِ فَمَاتَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عمران جونی کہتے ہیں: ہم فارس کی طرف جہاد کے لئے گئے ہوئے تھے، اس وقت ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: جو آدمی ایسے چھت پر رات گزارے، جس پر کوئی پردہ یا رکاوٹ نہ ہو اور وہ گر کر مر جائے تو اس سے اللہ تعالی کی حفاظت اٹھ جاتی ہے، اسی طرح جو آدمی اس حال میں سمندری سفر کرے کہ وہ متلاطم خیز ہو اور پھر وہ مرجائے تو اس سے بھی اللہ کی حفاظت اٹھ جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ انسان اپنی حفاظت کا خود ذمہ دار ہے، اگر بظاہر اسے اپنی ہلاکت کا خطرہ ہو تو اللہ تعالی کی طرف سے کسی قسم کی حفاظت کی ضمانت نہ ہو گی۔ اللہ تعالی نے امت ِ مسلمہ کے لیے جو شرعی قوانین وضع کئے ہیں، ان میں انسانیت کے جان، مال اور عزت، غرضیکہ ہر چیز کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ میں دو آدمیوں کو جانتا ہوں۔ جو نیند کی حالت میں چھت پر باڑ نہ ہونے کی وجہ سے گر کر شدید زخمی ہو گئے تھے۔