الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ اعْتِبَارِ الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ مِنَ الِاسْتِطَاعَةِ وَكَذَلِكَ سَلَامَةِ الطَّرِيقِ وَوُجُودِ باب: زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ مَرْوَانَ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَى أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَ: قَالَتْ: جَاءَ أَبُو مَعْقِلٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَلَمَّا قَدِمَ أَبُو مَعْقِلٍ قَالَتْ أُمُّ مَعْقِلٍ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَلَيَّ حَجَّةً، وَأَنَّ عِنْدَكَ بَكْرًا فَأَعْطِنِي فَلِأَحُجَّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: إِنَّكِ قَدْ عَلِمْتِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَتْ: فَأَعْطِنِي صِرَامَ نَخْلِكَ، قَالَ: قَدْ عَلِمْتِ أَنَّهُ قُوتُ أَهْلِي، قَالَتْ: فَإِنِّي مُكَلِّمَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَاكِرَتُهُ لَهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ حَتَّى دَخَلَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَلَيَّ حَجَّةً وَإِنَّ لِأَبِي مَعْقِلٍ بَكْرًا، قَالَ أَبُو مَعْقِلٍ: صَدَقَتْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: ((أَعْطِهَا فَلْتَحُجَّ فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ))، قَالَ: فَلَمَّا أَعْطَاهَا الْبَكْرَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَسَقِمْتُ فَهَلْ مِنْ عَمَلٍ يُجْزِئُ عَنِّي مِنْ حَجَّتِي؟ قَالَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ لِحَجَّتِكِ))۔ (چوتھی سند) ابوبکر بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مروان نے جس قاصد کو سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تھا، اس نے مجھے بیان کیا کہ سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدنا ابو معقل رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کو جانے لگے، جب وہ گھر آئے تو میں نے کہا: آپ جانتے ہیں کہ مجھ پر بھی حج فرض ہے اور آپ کے پاس ایک اونٹ ہے، آپ وہ مجھے دے دیں تاکہ میں بھی حج کر سکوں۔انھوں نے کہا: تم جانتی ہو کہ میں اسے اللہ کی راہ میں وقف کر چکا ہوں، اس لیے وہ آپ کو نہیں دیا جا سکتا۔ سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر آپ نے جو کھجوریں چن لی ہیں، وہ مجھے دے دیں، انھوں نے کہا: تم جانتی ہو کہ وہ تو میرے اہل و عیال کی خوراک ہیں، سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کرتی ہوں۔چنانچہ وہ دونوں چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر حج فرض ہے اور ابو معقل کے پاس ایک اونٹ بھی ہے۔ سیدنا ابو معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی بات درست ہے ،مگر میں تو اسے اللہ کی راہ میں وقف کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم وہ اونٹ اسے دے دو، تاکہ یہ اس پر حج کر سکے، اور حج بھی اللہ تعالی کی راہ میں سے ہے۔ جب سیدنا ابو معقل رضی اللہ عنہ نے اسے اونٹ دے دیا تو وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں اب کافی عمر رسیدہ ہو چکی ہوں اور بیمار بھی رہتی ہوں ،کیا کوئی عمل ایساہے جو میرے حج کا عوض بن سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج سے کفایت کرے گا۔
اِن اور اس موضوع کی دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حج کا تعلق بھی فی سبیل اللہ سے ہے، اگر کوئی آدمی کسی چیز کو جہاد کے لیے وقف کر دیتا ہے تو اس کو سفرِ حج و عمرہ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، حدیث نمبر (۴۰۶۱) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ حج اور جہاد دونوں کے لیے جو چیز خرچ کی جائے گی، اس کا ثواب سات سو گنا تک ملے گا اور ہم حدیث (۴۰۶۲) کے فوائد میں یہ بحت کر آئے ہیں کہ خواتین کا حج، اُن کے حق میں جہاد کا حکم رکھتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ جہاد میں لڑنا پڑتا ہے اور حج کا لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ باقی سفر کرنا، کئی مشقتیں برداشت کرنا، راستے کے اخراجات کا بندوبست کرنا اور اہل و عیال سے دور ہونا، یہ تمام امور جیسے جہاد میں ہیں، اس طرح حج وعمرہ کے سفر میں ہیں۔