الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ وُجُوبِ الْحَجِّ عَلَى الشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالزَّمِنِ (*) إِذَا أَمْكَنَهُمَا الِاسْتِنَابَةُ - باب: عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت¤ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: ((أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ يُجْزِيهِ؟))، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ))۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یا سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میرا والد مسلمان ہے، لیکن اب وہ اس قدر عمر رسیدہ ہو چکا ہے کہ سواری پر بھی بیٹھ نہیں سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتاہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے اگر اس کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اس کی طرف سے ادا کرتے، تو کیا اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔