حدیث نمبر: 407
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتِ النَّبِيَّ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ، قَالَ: ((فَإِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ)) قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ لَمْ يَخْرُجْ أَثَرُهُ؟ قَالَ: ((يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ))
وضاحت:
فوائد: … اس امر پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ حیض کا خون پلید ہے، مذکورہ بالا احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ اس خون کی مکمل صفائی ہونی چاہیے۔ اس کا (باقی رہ جانے والا) نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔ اس چیز کو سمجھنے کے لیے ایک مثال دینا ضروری ہے، جن لوگوں کو بغلوں میں بہت زیادہ پسینہ آتا ہے، بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ کپڑے کے اس حصے کا رنگ زرد ہو جاتا ہے اور دھونے کے باوجود نہیں اترتا ہے، جبکہ اس زردی کے باقی رہنے کا یہ معنی نہیں ہوتا ہے کہ ابھی تک پسینہ باقی ہے، دراصل یہ پسینہ کی وجہ سے پڑ جانے والا رنگ ہوتا ہے، یہی معاملہ حیض کے خون اور دوسری اس قسم کی چیزوں کا ہے۔ مقصودِ شریعت یہ ہے کہ حیض کے خون کو صاف کیا جائے اور اگر اس کی وجہ سے کپڑے کی رنگت ہی تبدیل ہو گئی ہے، تو اس کے باقی رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 407
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 365 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8752»