حدیث نمبر: 4066
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ؟ فَقَالَ: ((لَا، بَلْ حَجَّةٌ، فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِيعُوا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: آیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ایک بار فرض ہے، البتہ جو شخص اس کے بعد مزید حج کرے گا تو وہ نفل ہو گا اور اگر میں تیرے سوال کے جواب میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر یہ ہر سال فرض کر دیا گیا تو تم نہ یہ حکم قبول کرو گے اور نہ اس پر عمل کرو گے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بنفسِ نفیس حجت ِ شرعی ہے اور اس سے اس کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ قرآن کی کسی آیت کی موافقت کر رہی ہے یا مخالفت۔
یہ ظاہری لحاظ سے ہی مخالفت ہو سکتی ہے، حقیقی نہیں۔ جیسے بعض قرآنی آیات آپس میں ظاہری لحاظ سے متعارض ہو سکتی ہیں لیکن ان کی توجیہ ہو جاتی ہے، جس سے وہ آپس میں مخالف ومتعارص نہیں رکھتیں۔ باقی رہا حقیقی تعارض یا مخالفت کا معاملہ تو وہ نہ قرآن مجید کا آپس میںہے، نہ احادیث کا آپس میں ہے اور نہ ہی قرآن وحدیث کا آپس میں ہے۔ (عبداللہ رفیق)
یہ ظاہری لحاظ سے ہی مخالفت ہو سکتی ہے، حقیقی نہیں۔ جیسے بعض قرآنی آیات آپس میں ظاہری لحاظ سے متعارض ہو سکتی ہیں لیکن ان کی توجیہ ہو جاتی ہے، جس سے وہ آپس میں مخالف ومتعارص نہیں رکھتیں۔ باقی رہا حقیقی تعارض یا مخالفت کا معاملہ تو وہ نہ قرآن مجید کا آپس میںہے، نہ احادیث کا آپس میں ہے اور نہ ہی قرآن وحدیث کا آپس میں ہے۔ (عبداللہ رفیق)