حدیث نمبر: 4062
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج، ہر کمزور آدمی کا جہاد ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … ’’جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ فضیلت والا عمل جہاد ہے، توکیا ہم بھی جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا، وَلَکُنَّ اَفْضَلُ الْجِھَادِ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) … ’’جی نہیں، تمہارے لیے سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد تو حج مبرور ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۱۵۲۰) اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کی طرح حج و عمرہ کے سفر میں مشقت، محنت، تھکاوٹ، اپنے ساتھ زادِ راہ اٹھانے اور اپنے علاقے اور رشتہ داروں سے جدا ہونے جیسے امور پائے جاتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس میں لڑائی نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4062
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو جعفر محمد بن علي الباقر لم يسمع من ام سلمة۔ أخرجه ابن ماجه: 2902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26674 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27209»