حدیث نمبر: 4059
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ))، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا الْحَجُّ الْمَبْرُورُ؟ قَالَ: ((إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج مبرور کی جزا نہیں ہے، مگر جنت۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے نبی! حج مبرور کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے دوران لوگوں کو کھانا کھلایا جائے اور سلام عام کیا جائے۔

وضاحت:
فوائد: … ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((بِرُّ الْحَجِّ إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَطِیْبُ الْکَلَامِ۔)) … ’’کھانا کھلانا اور شیریں کلام کرنا حج کی نیکی ہے۔‘‘ اس قسم کی نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ حج صرف مناسکِ حج کی ادائیگی کا نام نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کی برائی سے اجتناب کرنے اور ہر ممکنہ نیکی کرنے کا نام ہے۔ اس باب کی حدیث میں یہ بتلایا گیا ہے کہ سفرِ حج اور حج کے دوران کھانا کھلانا، سلام کرنا اور شیریں کلام کرنا بہترین نیکیاں ہیں، چونکہ اس موقع پر جمع ہونے والے اکثر و بیشتر لوگ مسافر اور اجنبی اور ضرورت مند ہوتے ہیں، اگر وہ آپس میں حسن سلوک سے پیش آئیں گے تو ایک دوسرے کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں گی اور تکمیلِ حج کے مراحل بھی طے ہوتے رہیں گے۔ ہم نے حج مبرور کییہ تعریف کی تھی کہ جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو نیکیوں کا ذکر کیا ہے، دراصل یہ حج مبرور کی علامتوں میں سے دو علامتیں ہیں اور اس سائل کے جواب میں ان دو نیکیوں کا ذکر کرنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آدمی ان دو امور میں سستی کرتا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سائل کو اس کے حال کے مطابق جواب دیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4059
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بمجموع الطرق (الصحيحة: 1264)۔أخرجه الطيالسي: 1718، والحاكم: 1/ 483، وابن خزيمة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14536»