الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ باب: حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4058
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ، وَالْعُمْرَتَانِ تُكَفِّرَانِ مَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج مبرور کا ثواب تو جنت ہی ہے اور دو عمرے اپنے درمیانی عرصے کے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر میں سب سے زیادہ اخراجات حج اور عمرہ کی ادائیگی پر آتے ہیں، ان عبادات کی وجہ سے گناہوں کے معاف ہونے کا معاملہ تو واضح ہے، رہا مسئلہ ان کی وجہ سے فقر و فاقہ کے ختم ہونے کا تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی خاص برکات کا نتیجہ ہوتا ہے، جس کے حصول کے لیے بڑی رغبت کی ضرورت ہے، عام لوگ اس سے محروم رہتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ایک دفعہ حج یا عمرہ کرنے والے اسی حساب و کتاب میں پڑے رہتے ہیں کہ بہت زیادہ خرچہ ہو گیا،مالدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ حرص و بخل سے بچتے ہوئے حج و عمرہ کی ادائیگی کا اہتمام کریں اور درمیانی آمدنی والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ بھی اس مرتبہ کو حاصل کرنے کی فکر کریں۔