الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ باب: حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4056
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ، وَفِيهِ: ((فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ وَالرِّزْقِ، وَتَنْفِيَانِ الذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سابقہ حدیث کی طرح ہی ہے، البتہ اس میں یہ فرق ہے: ان دونوں کو پے در پے بجا لانے سے عمر اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ گناہوں کو یوں ختم کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ مضمون کتاب و سنت میں کئی مقامات پر بیان کیاگیا ہے کہ نیکی اور تقوی کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کو رزق عطا کرتا ہے اور روزی میں برکت آ جاتی ہے، رہا مسئلہ حج وعمرہ اور اور دوسری نیکیوں کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہونے کا تو سوال یہ ہے کہ ہر ایک کی تاریخ وفات کا تو فیصلہ ہو چکا ہے، پھر نیکی کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہونا کیسے ممکن ہے؟اس کے چار جوابات ہیں: ۱۔ اللہ تعالی تقدیر کی بعض صورتوںکو معلق رکھتے ہیں، جیسے اگر یہ بندہ نیک ہوا تو اس کی عمر اتنی ہو گی اور برا ہونے کی صورت میں اتنی، جبکہ اللہ تعالی کواس بندے کے نیک و بد ہونے کا علم ہوتا ہے۔
۲۔ عمر میں اضافے سے مراد برکت کا حصول، عمل کی توفیق اور عمر کا ضائع نہ ہونا ہے۔ ان تین امور کی وجہ سے آدمی اپنی تھوڑی زندگی میں اتنا توشۂ آخرت تیار کر لیتا ہے کہ طویل عمریں پانے والے بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ایسی صورت کو کہا جا سکتا ہے کہ اس کی زندگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
۳۔ عمر میں اضافے سے مراد اس شخص کے ذکر جمیل کا باقی رہنا ہے، یعنی نیکیوں کی وجہ سے اللہ تعالی اس کو دوسرے لوگوں میں نیک مشہور کر دیتا ہے، اس طرح عرصۂ دراز تک اس کی نیک نامی کا چرچا رہتا ہے۔
۴۔ دوسرے اسباب کی طرح نیکیاں بھی طویل زندگی کا ایک سبب ہے، اللہ تعالی جس شخص کو لمبی زندگی عطا کرنا چاہتا ہے تو اسے نیکیاں کرنے کی توفیق دیتا ہے، لیکنیہ اضافہ مخلوق کے اعتبار سے ہے، رہا اللہ تعالی کے علم کا مسئلہ تو اس میں کوئی کمی بیشی واقع نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے شفا کو زندگی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔
۲۔ عمر میں اضافے سے مراد برکت کا حصول، عمل کی توفیق اور عمر کا ضائع نہ ہونا ہے۔ ان تین امور کی وجہ سے آدمی اپنی تھوڑی زندگی میں اتنا توشۂ آخرت تیار کر لیتا ہے کہ طویل عمریں پانے والے بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ایسی صورت کو کہا جا سکتا ہے کہ اس کی زندگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
۳۔ عمر میں اضافے سے مراد اس شخص کے ذکر جمیل کا باقی رہنا ہے، یعنی نیکیوں کی وجہ سے اللہ تعالی اس کو دوسرے لوگوں میں نیک مشہور کر دیتا ہے، اس طرح عرصۂ دراز تک اس کی نیک نامی کا چرچا رہتا ہے۔
۴۔ دوسرے اسباب کی طرح نیکیاں بھی طویل زندگی کا ایک سبب ہے، اللہ تعالی جس شخص کو لمبی زندگی عطا کرنا چاہتا ہے تو اسے نیکیاں کرنے کی توفیق دیتا ہے، لیکنیہ اضافہ مخلوق کے اعتبار سے ہے، رہا اللہ تعالی کے علم کا مسئلہ تو اس میں کوئی کمی بیشی واقع نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے شفا کو زندگی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔