الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ باب: حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4053
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِأَهْلِ عَرَفَةَ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی عرفہ کے دن شام کو اہل عرفہ کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندوں کی طرف دیکھو،یہ پراگندہ اور گرد آلود ہو کر میرے پاس آئے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … حجاج کرام نو ذوالحجہ کا دن عرفات میں گزارتے ہیں اور غروب ِ آفتاب کے بعد وہاں سے مزدلفہ کے لیے چل پڑتے ہیں اور مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے وہاں پہنچ کر ادا کرتے ہیں۔ فخر کرنے کی بنیادیہ ہے کہ حاجی لوگ اپنی شہوات کا قلع قمع کر کے اس میدان میں پہنچے ہیں، جن کا مقصد ریاکاری اور نمود و نمائش نہیں، بلکہ اللہ تعالی کو راضی کرنا ہے، برخلاف فرشتوں کے کہ جن کے مزاج میں شہوت کا کوئی عنصر پایا ہی نہیں جاتا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُاللّٰہِ، دَعَاھُمْ فَأَجَابُوْہُ، سَأَلُوْہُ فَأَعْطَاھُمْ)) ’’حج اور عمرہ کرنے والے لوگ اللہ تعالی کا وفد ہیں،اللہ تعالی نے اُن کو بلایا، انھوں نے (اس کے بلاوے کو) قبول کیا اور انہوں نے اللہ تعالی سے سوال کیا، اُس نے ان کو عطا کردیا۔‘‘ (البزار: رقم ۱۱۵۳، الصحیحۃ: ۱۸۲۰)
جہاں حج و عمرہ کی ادائیگی کرنے والے دور دراز کا سفر کر کے اللہ تعالی کے گھر کی زیارت کے لیے پہنچتے ہیں، وہاں اللہ تعالی ان کی قدر دانی کرتے ہوئے ان کے مطالبات پورا کرتے ہیں۔
جہاں حج و عمرہ کی ادائیگی کرنے والے دور دراز کا سفر کر کے اللہ تعالی کے گھر کی زیارت کے لیے پہنچتے ہیں، وہاں اللہ تعالی ان کی قدر دانی کرتے ہوئے ان کے مطالبات پورا کرتے ہیں۔