الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ باب: حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4051
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ))، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَجٌّ مَبْرُورٌ يُكَفِّرُ خَطَايَا تِلْكَ السَّنَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے اعمال یہ ہیں: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حج مبرور تو اس سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حج مبرور: وہ حج ہے، جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو۔حج ایک اہم رکنِ اسلام اور عظیم اور مشقت طلب عبادت ہے اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مالی اعتبار سے سب سے مہنگی عبادت ہے۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ اس کو کامل یکسوئی اور اخلاص کے ساتھ ادا کیاجائے اور ریاکاری و نمو دو نمائش سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔ ’’ایسا ایمان جس میںکوئی شک نہ ہو۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اعتقادی مسائل اور قطعی الثبوت فرائض و واجبات پر یقین محکم ہونا چاہیے، مثلا توحید، نبوت، حساب و کتاب کے لیے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالی کے حضور پیش ہونا، جنت و جہنم، پانچ نمازیں، زکاۃ، روزے اور حج وغیرہ۔