الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الْهِرَّةِ باب: بلی کے جوٹھے کا بیان
عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءَهُ فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَأَنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ)) وَقَالَ إِسْحَاقُ: ((أَوِ الطَّوَّافَاتِ))سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا، جو سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈال کر رکھا، اتنے میں ایک بلی آ گئی اور اس نے اس برتن سے پینا شروع کر دیا، انہوں نے اس کے لیے برتن کو جھکایا، یہاں تک کہ اس نے پانی پی لیا۔ سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا: ”اے بھتیجی! کیا تجھے تعجب ہو رہا ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں،“ انہوں نے کہا: ”بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ بلی ناپاک نہیں ہے، بیشک یہ تو چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔“