الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ أُحَدِّثُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ)) ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ((عَلَى رَغْمِ أَبِي ذَرٍّ)) قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَهُوَ يَقُولُ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ.سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید کپڑا اوڑھ کر سوئے ہوئے تھے، پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے کے لیے آیا، لیکن ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے، اس کے بعد جب میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے گا اور پھر اسی پر مر جائے گا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو۔“ میں دوسری بار پھر کہا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو۔“ تین دفعہ تو ایسے ہی ہوا اور چوتھی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے کے ساتھ ساتھ۔“ یہ سن کر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ وہاں سے ازار کو گھسیٹتے اور یہ کہتے ہوئے نکل پڑے: ”اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔“