الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ نَجَاسَةٌ وَمَا جَاءَ فِي بِئْرِ بِضَاعَةَ باب: اس پانی کے حکم کا بیان، جس کے ساتھ نجاست مل جائے اور بئرِ بضاعہ کی تفصیل
حدیث نمبر: 389
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَتَوَضَّأُ مِنْهَا وَهِيَ يُلْقَى فِيهَا النَّتَنُ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بئر بضاعہ سے وضو کر رہے تھے، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ اس کنویں سے وضو کر رہے ہیں، جبکہ اس میں بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔“