حدیث نمبر: 383
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنْ أَبِي حَاجِبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي غِفَّارٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

بنو غفار کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد کو عورت کی طہارت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا۔“

وضاحت:
فوائد: … لیکن ان احادیث سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ وہ پانی نجس ہو جاتا ہے یا مطہِّر نہیں رہتا، کیونکہ اگلے باب کی احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ام المؤمنین کے جنابت والے غسل سے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کیا ہے، اگر محض غسل کرنے سے پانی کی طہوریت میں فرق آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو غسل یا وضو نہ کرتے۔ دراصل ان احادیث ِ مبارکہ میں انسان کی طبع کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسے پانی سے تنزیہی طور پر منع کیا گیا ہے، وگرنہ اگر کوئی استعمال کرنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، جیسا کہ ان تین چار ابواب میں مذکورہ کئی احادیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو رہا ہے۔ اگر اس نہی کی بنیاد ی وجہ پانی کے استعمال شدہ ہونے کو قرار دیا جائے تو پہلی حدیث کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تو نہ فرماتے کہ ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلّو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھا نہا لیں)۔ کیونکہ ایک برتن میں ایک وقت میں وضو اور غسل کرنے والے ایک دوسرے کا بچا ہوا پانی استعمال کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 383
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18020»