حدیث نمبر: 38
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ)) فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ، هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَعَزَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی دل کی سچائی کے ساتھ اس کو کہے گا، وہ آگ کے حق میں حرام ہو جائے گا۔“ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں بتلاتا ہوں کہ وہ کلمہ کون سا ہے، وہ تو وہ کلمہ اخلاص ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو عزت بخشی، وہ کلمہ تقویٰ ہے جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کی موت کے وقت اس پر پیش کیا تھا اور وہ ہے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی شہادت دینا۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 38
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ۔ أخرجه الحاكم: 1/ 351، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 447»