حدیث نمبر: 375
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: كَانَ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ يَتَوَضَّؤُنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَيَشْرَعُونَ فِيهِ جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(تیسری سند) عہد نبوی میں عورتیں اور مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے اور اکٹھے شروع ہوتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خواتین و حضرات یا صرف خواتین یا صرف مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کر سکتے ہیں۔ لیکن اِن سے بے پردگی کا ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ ممکن ہے کہ وضو کایہ واقعہ پردہ کے احکام کے نزول سے پہلے کا ہو، یا محرم رشتہ دار اس طرح وضو کرتے ہوں، یا غیر محرم اپنی نظروں کی حفاظت کے ساتھ اکٹھے وضو کر لیتے ہوں۔ اس باب میں ان احادیث سے استدلال کیا جا رہا ہے کہ وضو یا غسل سے بچا ہوا پانی طاہر اور مطہِّر ہے، کیونکہ جب ایک آدمی ایک برتن سے وضو یا غسل شروع کرتا ہے تو وہ پانی دوسرے آدمی کیلئے تو اس کی طہارت سے بچا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود دوسرا آدمی اسی پانی سے وضو اور غسل کر رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مائے مستعمل خود بھی پاک ہے اور پاک کرنے والا بھی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 375
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4481»