الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي أَنْ غَسْلَ الرَّجُلِ مَعَ زَوْجَتِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ لَا يُسَبِّبُ طَهُورِيَّةَ الْمَاءِ باب: خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 370
عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ الرَّجُلِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا كَانَتْ كَيِّسَةً، رَأَيْتُنِي وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْكَنٍ وَاحِدٍ نُفِيضُ عَلَى أَيْدِينَا حَتَّى نُنْقِيَهَا ثُمَّ نُفِيضُ عَلَيْنَا الْمَاءَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے ام سلمہ ناعم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا عورت اپنے خاوند کے ساتھ غسل کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، لیکن جب وہ عقلمند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہم ایک ٹب سے غسل کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیتے اور پھر اپنے جسموں پر پانی بہا دیتے تھے۔“