حدیث نمبر: 361
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَعَكَ طَهُورٌ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَمَا هَذَا فِي الْإِدَاوَةِ؟)) قُلْتُ: نَبِيذٌ، قَالَ: ((أَرِنِي هَا، ثَمَرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ)) فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وَصَلَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تمہارے پاس پاک کرنے والا (پانی) ہے؟“ میں نے کہا: ”جی نہیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اس چھوٹے برتن میں کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”نبیذ ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دو، پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا اور نماز پڑھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 361
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4301»