حدیث نمبر: 360
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْجِنِّ تَخَلَّفَ مِنْهُمْ رَجُلَانِ وَقَالَا: نَشْهَدُ الْفَجْرَ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَعَكَ مَاءٌ؟)) قُلْتُ: لَيْسَ مَعِي مَاءٌ وَلَكِنْ مَعِي إِدَاوَةٌ فِيهَا نَبِيذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ))، فَتَوَضَّأَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب جنوں والی رات تھی تو ان میں سے دو افراد پیچھے رہ گئے اور انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے ساتھ نماز فجر ادا کریں گے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے کہا: ”میرے پاس پانی نہیں ہے، البتہ ایک برتن میں نبیذ ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … میرے پاس الفتح الربانی والے نسخے میں ثَمَرَۃٌ (ثاء کے ساتھ) ہے۔ لیکن ابو داود اور ترمذی میں تَمَرَۃٌ (ثاء کے ساتھ) ہے اور یہی درست معلوم ہوتا ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ معنی دونوں لحاظ سے درست بن جائے گا۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 360
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي زيد مولي عمرو بن حريث ۔ أخرجه ابوداود: 84، والترمذي: 88، ابن ماجه: 384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4296»