حدیث نمبر: 357
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْبَحْرِ: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: ”اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … عام طور پر سمندر کا پانی کھارا اور نمکین ہونے کی وجہ سے، دوسرے پانیوں سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے سائل کو شبہ ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے شبہ کا ازالہ کر دیا اور اس کی ضرورت کے مطابق سمندر کے مردار کے حلال ہونے کی بھی وضاحت کر دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مفتی اور عالم کو اتنا فہیم ہونا چاہیے کہ وہ سائل کے سوال کے مقصد اور اس کے متعلقات کو سمجھ سکے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ جس شخص کو سمندر کے پانی کے بارے میں شک پڑ رہا ہے، وہ لامحالہ طور پر اس کے مردار کے بارے متردّد ہو گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردار کے حکم کی بھی وضاحت کر دی، یہ چیز فتوی کے محاسن میں سے ہے۔ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ تمام سمندری حیوانات، جو صرف پانی میں زندہ رہ سکتے ہیں، حلال ہیں، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے اور یہی مسلک راجح ہے، کیونکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان عام ہے، جو ہر سمندری کو شامل ہے، نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ} … تمہارے لیے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۹۶)البتہ امام ابو حنیفہ صرف مچھلی کے مردار کو ہی حلال سمجھتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 357
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 388، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15076»