حدیث نمبر: 356
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّ بَعْضَ بَنِي مُدْلِجٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْكَبُونَ الْأَرْمَاثَ فِي الْبَحْرِ لِلصَّيْدِ فَيَحْمِلُونَ مَعَهُمْ مَاءً لِلسَّقَايَةِ فَتُدْرِكُهُمُ الصَّلَاةُ وَهُمْ فِي الْبَحْرِ وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا وَإِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَاءِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَقَالَ لَهُمْ: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبداللہ بن مغیرہ کنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بنو مدلج کے بعض افراد نے اس کو بتلایا ہے کہ وہ لوگ شکار کرنے کے لیے تختوں پر سمندر میں جاتے تھے اور پینے کے لیے اپنے ساتھ پانی لے جاتے تھے، لیکن ان کی نماز کا وقت بھی سمندر میں ہی ہو جاتا تھا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ صورتحال بیان کی اور کہا: ”اگر ہم اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے پانی سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے اور اگر سمندر کے پانی سے وضو کریں تو دل میں شک سا رہتا ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 356
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 130، والحاكم: 1/ 141، عبد الرزاق: 321 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23484»