الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي طَهُورِيَّةِ مَاءِ الْبَحْرِ وَمَاءِ الْبِئْرِ باب: سمندر اور کنویں کے پانی کے طاہر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 355
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّا نَبْعُدُ فِي الْبَحْرِ وَلَا نَحْمِلُ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا الْإِدَاوَةَ وَالْإِدَاوَتَيْنِ لِأَنَّا لَا نَجِدُ الصَّيْدَ حَتَّى نَبْعُدَ، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَإِنَّهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ، الطَّهُورُ مَاؤُهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) بیشک کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”ہم سمندر میں دور تک نکل جاتے ہیں، کیونکہ دور جائے بغیر شکار نہیں ملتا اور اپنے ساتھ ایک دو چھوٹے چھوٹے برتنوں میں (پینے والا پانی) اٹھایا ہوا ہوتا ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، بیشک اس کا مردار حلال ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … چمڑے کے چھوٹے سے برتن کو اِدَاوَۃ کہتے ہیں۔