حدیث نمبر: 353
عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ؟ قَالَ: وَاللَّهِ! لَا أَعْرِفُ فِيهِمْ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا، (وَفِي رِوَايَةٍ: إِلَّا الصَّلَاةَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ میرے پاس غصے کی حالت میں آئے، میں نے کہا: ”کس نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ان لوگوں میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مشتمل کوئی چیز نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ یہ نماز اکٹھی پڑھتے ہیں۔“ ایک روایت میں ہے: ”سوائے نماز کے۔“

وضاحت:
فوائد: … آخری صحابی تو۱۱۰ھ میں فوت ہوا، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس سے بہت پہلے کئی ایسے امورِ خیر مفقود ہو گئے تھے، جو عہد ِنبوی اور خلافت ِ راشدہ کے ابتدائی دور میں موجود تھے، مطالعہ کرنے والے لوگ جانتے ہیں،اسباب کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، پھر آہستہ آہستہ تنزّل آتا گیا اور پندرہویں صدی ہجری شروع ہو گئی، جس میں شرّ، فسا د اور بگاڑ بہت عروج پر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 353
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 650 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28048»