الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
خَاتِمَةٌ فِيمَا وَرَدَ عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَةِ فِي تَغَيُّرِ الْحَالِ فِي عَصْرِ التَّابِعِينَ باب: خاتمہ: بعض صحابہ سے اس چیز کا ثابت ہونا کہ تابعین کے زمانہ میں ہی حالات بگڑ گئے تھے
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا أَعْرِفُ فِيكُمُ الْيَوْمَ شَيْئًا كُنْتُ أَعْهَدُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ قَوْلُكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ! الصَّلَاةُ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتَ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، أَفَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَ: عَلَى أَنِّي لَمْ أَرَ زَمَانًا خَيْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِكُمْ هَذَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ زَمَانًا مَعَ نَبِيٍّثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں جن امور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیکھتا تھا، آج تم میں تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی، البتہ تمہارا «لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ» کہنا وہی ہے۔“ میں نے کہا: ”اے ابو حمزہ! نماز (بھی تو وہی ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”تو نے تو (عصر کی) نماز غروب آفتاب کے وقت پڑھی ہے، کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی؟“ پھر انہوں نے کہا: ”اس کے باوجود یہ بات تو ہے کہ میں نے کوئی ایسا زمانہ نہیں دیکھا، جو عامل کے لیے تمہارے اس زمانے سے بہتر ہو، الا یہ کہ وہ زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت والا ہو۔“