حدیث نمبر: 352
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا أَعْرِفُ فِيكُمُ الْيَوْمَ شَيْئًا كُنْتُ أَعْهَدُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ قَوْلُكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ! الصَّلَاةُ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتَ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، أَفَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَ: عَلَى أَنِّي لَمْ أَرَ زَمَانًا خَيْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِكُمْ هَذَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ زَمَانًا مَعَ نَبِيٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں جن امور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیکھتا تھا، آج تم میں تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی، البتہ تمہارا «لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ» کہنا وہی ہے۔“ میں نے کہا: ”اے ابو حمزہ! نماز (بھی تو وہی ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”تو نے تو (عصر کی) نماز غروب آفتاب کے وقت پڑھی ہے، کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی؟“ پھر انہوں نے کہا: ”اس کے باوجود یہ بات تو ہے کہ میں نے کوئی ایسا زمانہ نہیں دیکھا، جو عامل کے لیے تمہارے اس زمانے سے بہتر ہو، الا یہ کہ وہ زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت والا ہو۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 352
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابو يعلي: 3330 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13897»