الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
خَاتِمَةٌ فِيمَا وَرَدَ عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَةِ فِي تَغَيُّرِ الْحَالِ فِي عَصْرِ التَّابِعِينَ باب: خاتمہ: بعض صحابہ سے اس چیز کا ثابت ہونا کہ تابعین کے زمانہ میں ہی حالات بگڑ گئے تھے
حدیث نمبر: 351
عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: ((مَا أَعْرِفُ شَيْئًا الْيَوْمَ مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: فَأَيْنَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي الصَّلَاةِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عمران جونی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم عہد نبوی میں جن امور پر کاربند تھے، آج تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔“ ہم نے کہا: ”پس نماز کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کیا تم نے نماز میں وہ کچھ نہیں کیا جن کو تم خود جانتے ہو؟“