الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
بَابٌ فِي قَوْلِهِ ﷺ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ باب: آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان
حدیث نمبر: 350
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلُ لِمُوسَى: {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ، قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} إِنَّكُمْ تَرْكَبُونَ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: «اللّٰہُ أَکْبَرُ» یہ تو وہی بات ہے جو بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِجْعَلْ لَنَآ اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ» (اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔) آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: 138) بیشک تم لوگ اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے یہودو نصاری نافرمانیوں، بغاوتوں اور اپنے انبیاء ورسل کی مخالفت پر تُل گئے، ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے افراد بھی قرآن و حدیث کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرلیں گے، آخری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ایک مثال کی وضاحت کر دی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف ثابت ہوئی اور اہل کتاب کی طرح امت ِ اسلامیہ کے افراد نے ہر قسم کی معصیت کا ارتکاب کر دیا، مثلا: شرک و بدعت کی کئی صورتیں، اماموں کی تقلید نا سدید، رشوت، خیانت، حدودِ الٰہی کے نفاذ میں معاشرے کے اعلی اور ادنی افراد میں فرق، ذاتی مقصد کی خاطر آیات و احادیث کو چھپانا اور ان میں اضافہ کرنا اور ان میں باطل تاویل کرنا، حرام و حلال کے خود ساختہ معیار بنانا، غیر اللہ کے نام پر نذر و نیاز، ترکِ نماز، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا، وغیرہ وغیرہ۔