الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْتَأْذِنُونَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذِهِ لَسَفِيهٌ فِي نَفْسِي، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: ((أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ)) وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ فِي الْجَنَّةِ)) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.(دوسری سند) سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آ رہے تھے کہ لوگوں نے اجازتیں لینا شروع کر دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور خیر والی بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ شہادت دیتا ہوں کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے تو وہ جنت کی طرف چلے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم اٹھاتے تھے تو یوں فرماتے تھے: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔“