الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
بَابٌ فِي قَوْلِهِ ﷺ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ باب: آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا عَنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ قَالَ: وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ يَعْكِفُونَ عِنْدَهَا وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا ذَاتُ أَنْوَاطٍ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ قَالَ: فَقُلْنَا: (وَفِي رِوَايَةٍ: فَقُلْتُ) يَا رَسُولَ اللَّهِ! اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: كَمَا لِلْكُفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ، قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} إِنَّهَا لَسُنَنٌ، لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ سُنَّةً سُنَّةً))سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے لیے مکہ مکرمہ سے نکلے، کافروں کی ایک بیری تھی، وہ اس کے پاس قیام کرتے تھے اور اس کے ساتھ اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے (اور مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھتے تھے)، اس بیری کو ذات انواط کہتے تھے، پس ہم سبز رنگ کی ایک بڑی بیری کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط بنائیں، جیسا کہ کافروں کی ذات انواط ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کہی، جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی،“ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «اِجْعَلْ لَنَآ اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ» (اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔) آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: 138) یہ مختلف طریقے ہیں، البتہ تم ضرور ضرور اور ایک ایک کر کے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔