الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
فَضْلٌ مِنْهُ فِي وَعِيدِ مَنْ بَدَّلَ أَوْ أَحْدَثَ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد¤کرنے والے کی وعید کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُحَدِّثُ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ!)) فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا: لُفِّي رَأْسِي، قَالَتْ: فَقَالَتْ: فَدَيْتُكِ، إِنَّمَا يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! قُلْتُ: وَيْحَكِ، أَوَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ؟ فَلَفَّتْ رَأْسَهَا وَقَامَتْ فِي حُجْرَتِهَا فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! بَيْنَمَا أَنَا عَلَى الْحَوْضِ جِيءَ بِكُمْ زُمَرًا فَتَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقَ، فَنَادَيْتُكُمْ، أَلَا! هَلُمُّوا إِلَى الطَّرِيقِ، فَنَادَانِي مُنَادٍ مِنْ بَعْدِي فَقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَقُلْتُ: أَلَا! سُحْقًا، أَلَا! سُحْقًا))عبداللہ بن رافع مخزومی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر فرمایا: ”اے لوگو!“ جب کہ میں کنگھی کر رہی تھی، میں نے کنگھی کرنے والی خاتون سے کہا: ”میرا سر ڈھانپ دے،“ اس نے کہا: ”میں تجھ پر قربان جاؤں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرما رہے ہیں: ”اے لوگو!“ میں نے کہا: ”تیرا ناس ہو، کیا ہم لوگ نہیں ہیں،“ پس اس نے اس کا سر ڈھانپ دیا اور وہ اپنے حجرے میں کھڑی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو! میں حوض پر ہوں گا، تم لوگوں کو گروہوں کی شکل میں لایا جائے گا، پس تمہارے راستے جدا جدا ہو جائیں، (کوئی حوض کے راستے پر چل پڑے گا اور کوئی کسی اور راستے پر) اس لیے میں آواز دوں گا: خبردار! اس راستے کی طرف آؤ، لیکن میرے پیچھے سے ایک آواز دینے والا مجھے آواز دے گا: ”بیشک ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا،“ پس میں کہوں گا: ”خبردار! بربادی ہو، خبردار! بربادی ہو۔“