الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
فَضْلٌ مِنْهُ فِي وَعِيدِ مَنْ بَدَّلَ أَوْ أَحْدَثَ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد¤کرنے والے کی وعید کا بیان
عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا (يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونَنِي ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فَيَقُولُ: ((إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي)))سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا، جو وہاں آئے گا، وہ پی لے گا اور جو وہاں سے پی لے گا، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اور حوض پر میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔“ ابو حازم رحمہ اللہ نے کہا: پس نعمان بن ابو عیاش رحمہ اللہ نے سنا، جبکہ میں ان کو یہ حدیث بیان کر رہا تھا، پس اس نے کہا: ”کیا تم نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں“ اس نے کہا: ”اور میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللLewisن نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کہوں گا: یہ لوگ تو مجھ سے ہیں،“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا: ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا عمل کیے تھے،“ پس میں کہوں گا: ”بربادی ہو، بربادی ہو، اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد (دین کو) تبدیل کر دیا۔“