حدیث نمبر: 34
عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَيْدٍ فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ فَيَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ)) فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ حِينَئِذٍ: ((أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ فِي الْجَنَّةِ)) قَالَ: ((وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا، لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّأُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذُرِّيَّاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف) سفر میں تھے، جب ہم کَدِید یا قُدَید مقام پر پہنچے تو لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف جانے کے لیے اجازت لینا شروع کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اجازت دیتے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہو گا کہ درخت کی جو طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔“ ہم نے دیکھا کہ یہ الفاظ سن کر سارے لوگ رونے لگ گئے، ایک آدمی (یعنی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”اس کے بعد جو آدمی آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ بیوقوف ہو گا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی اور فرمایا: ”جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے گا تو میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے بارے میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ وہ جنت کی طرف چلا جائے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی ایسے جنت میں داخل کرے گا کہ ان کا کوئی حساب اور عذاب نہیں ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ تم اور تمہارے نیک آباء، بیویاں اور اولاد جنت میں اپنے گھر بنا چکے ہوں گے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 34
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه مطولا و مختصرا الطيالسي: 1291، 1292، والدارمي: 1/ 348، والبزار: 3543، والطبراني في الكبير : 4559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16316»