الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
بَابٌ فِي التَّحْذِيرِ مِنَ الِابْتِدَاعِ فِي الدِّينِ وَإِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ باب: دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 339
عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ رَجُلًا أَوْصَى فِي مَسَاكِنَ لَهُ بِثُلُثِ كُلِّ مَسْكَنٍ لِإِنْسَانٍ، فَسَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ: اجْمَعْ ثَلَاثَةً فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَأَمْرُهُ رَدٌّ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَهُوَ رَدٌّ)))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے اپنے تین گھروں کے بارے میں وصیت کی کہ ہر گھر کا تیسرا حصہ ایک انسان کو ملے گا، میں نے اس کے بارے میں قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سوال کیا، انہوں نے کہا: ”ایک مکان تین افراد کے لیے (اور باقی دو گھر وارثوں کے لیے) کر دو،“ پس بیشک میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا عمل کیا، جس پر ہمارا حکم نہ ہو تو اس کا وہ عمل مردود ہو گا۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین سے متعلقہ ہر قول و فعل کے لیے شرعی دلیل کا ہونا ضروری ہے، وگرنہ وہ مردود ٹھہرے گا۔