الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
بَابٌ فِي التَّحْذِيرِ مِنَ الِابْتِدَاعِ فِي الدِّينِ وَإِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ باب: دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ الشُّمَالِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ فَقَالَ: يَا أَبَا أَسْمَاءَ! إِنَّا قَدْ أَجْمَعْنَا النَّاسَ عَلَى أَمْرَيْنِ، قَالَ: وَمَا هُمَا؟ قَالَ: رَفْعُ الْأَيْدِي عَلَى الْمَنَابِرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْقَصَصُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُمَا أَمْثَلُ بِدْعَتَيْكُمْ عِنْدِي وَلَسْتُ مُجِيبَكَ إِلَى شَيْءٍ مِنْهُمَا، قَالَ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَةً إِلَّا رُفِعَ مِثْلُهَا مِنَ السُّنَّةِ، فَتَمَسُّكٌ بِسُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ إِحْدَاثِ بِدْعَةٍ))غضیف بن حارث شمالی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبدالملک بن مروان نے مجھے بلا بھیجا، جب میں گیا تو اس نے کہا: ”اے ابو اسماء! ہم نے لوگوں کو دو چیزوں پر جمع کر لیا ہے۔“ میں نے کہا: ”وہ کون سی؟“ اس نے کہا: ”جمعہ کے روز منبروں پر ہاتھ اٹھانا اور نماز فجر اور نماز عصر کے بعد قصہ گوئی کرنا۔“ میں نے کہا: ”میرے نزدیک یہ تمہاری بدعتوں کی دو بہترین مثالیں ہیں اور میں ان میں سے کوئی بھی نہیں کروں گا۔“ اس نے کہا: ”کیوں؟“ میں نے کہا: ”کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قوم بدعت کو ایجاد کرے گی، اس سے اس بدعت کے بقدر سنت اٹھا لی جائے گی، پس سنت کو تھام لینا بدعت کو ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔“