حدیث نمبر: 337
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَنَّ سُنَّةَ ضَلَالٍ فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةَ هُدًى فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے گمراہی والا کوئی راستہ وضع کیا اور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنے والوں کے گناہ کے برابر گناہ ہو گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہ ہو گی، اسی طرح جس نے ہدایت والا کوئی راستہ جاری کیا اور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ہو گا، جبکہ ان کے اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔“

وضاحت:
فوائد: … جس نے ہدایت والا کوئی راستہ جاری کیا اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا طریقہ جاری کیا جائے، جو اس عمومی حکم میں شامل ہو، جس کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے رغبت دلائی ہو، جیسے سیدنا عمر ؓنے قیام رمضان کا اہتمام کروایا تھا اور اس سے وہ سنت اور شرعی طریقہ بھی مراد ہو سکتا ہے، جو مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے اپنا وجود کھو چکا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 337
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2674، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10563»