الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
بَابٌ فِي التَّحْذِيرِ مِنَ الِابْتِدَاعِ فِي الدِّينِ وَإِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ باب: دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 336
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کے شایان شان اس کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» پس بیشک سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اور بدترین امور وہ ہیں جو نئے نئے ہوں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہم جس دین کے پیروکار ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کی تکمیل ہو گئی تھی، لہٰذا شریعت میں ہر موقع سے متعلق جس جس چیز کا تعین ہو چکا ہے، اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ انہی امور کے پابند رہیں، مثال کے طور پر ایک آدمی فوت ہو جاتا ہے، تو اس کی حالتِ نزع سے لے کر اس کو دفنانے تک تمام احکام کا تعین کر دیا گیا ہے اور کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی ہے، اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ انہی امور کے پابند رہیں، میت کے پاس بیٹھ کر اس کے حق میں دعا کرنے کا حکم دیا گیا، نہ مخصوص انداز میں تلاوت کرنے کا، جب میت کو قبرستان کی طرف لے جایا جا رہا ہو تو کلمۂ شہادت کا نعرہ لگانا اور جواباً اَشْھَدُ … کہنا ثابت نہیں ہے، جب میت کو دفن کر دیا جائے تو اس کے لیے دعا کرنے کا حکم تو موجود ہے، لیکن قبر کے پاس اذان یا تلاوت جیسے امور ثابت نہیں ہیں۔
بدعت: وہ نئی بات جو دین میں اجر و ثواب کی غرض سے نکالی جائے اور جس کی دلیل کتاب وسنت سے نہ ہو۔ مثلا نماز عید سے پہلے خطبہ دینا، نماز کے بعد مصافحہ یا معانقہ کا اہتمام کرنا، مجلس میلاد، عرس، گیارہویں، چہلم، مجلس مرثیہ خوانی، رسم قل، رسم ختم وغیرہ وغیرہ۔
بدعت: وہ نئی بات جو دین میں اجر و ثواب کی غرض سے نکالی جائے اور جس کی دلیل کتاب وسنت سے نہ ہو۔ مثلا نماز عید سے پہلے خطبہ دینا، نماز کے بعد مصافحہ یا معانقہ کا اہتمام کرنا، مجلس میلاد، عرس، گیارہویں، چہلم، مجلس مرثیہ خوانی، رسم قل، رسم ختم وغیرہ وغیرہ۔