حدیث نمبر: 3355
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: ((يَا فُلَانُ! يَا فُلَانُ! هَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ أَمَا وَاللَّهِ! إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَسْمَعُونَ كَلَامِي))، قَالَ يَحْيَى: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ وَهَلَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَاللَّهِ! إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقًّا، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى} {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنویں (جس میں کفار کے مقتولوں کو پھینک دیا گیا تھا) کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: او فلاں! اوفلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ اس وقت میرا کلام سن رہے ہیں۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا، وہ حق تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ نیز فرمایا: جو لوگ قبروں میں ہیں، توان کو نہیں سنا سکتا۔

وضاحت:
فوائد: اس مسئلہ سے متعلق جو حدیث ِ مبارکہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر میں قتل ہونے والے کافروں کو ان کے اور ان کے آباء کے ناموں کے ساتھ آواز دی، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ ان جسموں سے کیا گفتگو کر رہے ہیں، جن میں روحیں نہیں ہیں؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3355
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3979،3980، 3981، ومسلم: 932 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4864، 4958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4864»