حدیث نمبر: 3354
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَأْتِي بَعْضَ نِسَائِهِ فَاتَّبَعْتُهُ فَأَتَى الْمَقَابِرَ، ثُمَّ قَالَ: ((السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ) وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ))، قَالَتْ: ثُمَّ الْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ: ((وَيْحَهَا، لَوِ اسْتَطَاعَتْ مَا فَعَلَتْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر چل پڑے، میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی اور بیوی کے پاس جا رہے ہیں، اس لیے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑی، لیکن دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے اور (یہ دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، اَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَہُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہُمْ۔(اس گھر والے مومنو! تم پر سلامتی ہو، تم ہم سے آگے ہو اور ہم بھی تم کو ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجرسے محروم نہ کرنا اور ان کے بعد ہمیں کسی فتنے میں نہ ڈالنا۔) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے طرف متوجہ ہوئے اور مجھے دیکھ کر کہا: یہ ہلاک ہو جائے، اگر اس کو یہ طاقت ہوتی تو یہ کام نہ کرتی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3354
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي، وعاصم بن عبيد الله العمري قد توبع أخرجه ابوداود، والنسائي: 7/ 75، وابن ماجه: 1546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24425، 24475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24979»