الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَهَلْ يَسْمَعُ الْمَيِّتُ قَوْلَ الْحَيِّ؟ باب: اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت کے موقع کیا کہا جائے او رکیا میت، زندہ کی بات سنتا ہے؟
حدیث نمبر: 3352
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ: ((سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ! وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ … )) الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبرستان میں تشریف لے گئے اور ان کو سلام کہتے ہوئے یہ دعا پڑھی: سَلَامٌ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ! وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ۔(اس گھر کے صاحب ِ ایمان لوگو! تم پر سلامتی ہو، ان شاء اللہ ہم بھی تمہیں ملنے والے ہیں۔)